صحیح بخاری حدیث ۶۵۹۸ - اللہ کے علم کی وسعت
اللہ خوب جانتا ہے: مشرکین کی اولاد پر حدیث
صحیح بخاری : ۶۵۹۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۹۸
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۵۹۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع اللہ کے علم کی وسعت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے۔ یہ جواب مختصر ہے مگر اس میں بڑا اصول ہے: جس معاملے کی پوری حقیقت بندے کے سامنے نہیں، اسے اللہ کے علم کے حوالے کرنا چاہیے۔ اس حدیث میں کوئی تفصیلی حکم بیان نہیں کیا گیا، بلکہ اللہ کے علم کی طرف رہنمائی کی گئی ہے۔ اس لیے اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے یہی کہنا درست ہے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اگر وہ بڑے ہوتے تو ان کے اعمال کیا ہوتے۔ بندے کو اللہ کے علم اور عدل پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ ہر شخص کے ممکنہ اعمال کو بھی جانتا ہے۔
- غیبی معاملات میں اپنی طرف سے فیصلہ کن بات نہیں کرنی چاہیے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب کو اللہ کے علم سے جوڑا۔
- مسلمان کو ایسے معاملے میں محتاط زبان استعمال کرنی چاہیے۔
