صحیح بخاری حدیث ۶۵۹۷ - مشرکین کی اولاد کا معاملہ
مشرکین کی اولاد کی حدیث: اللہ کے علم پر معاملہ چھوڑنا
صحیح بخاری : ۶۵۹۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۹۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کو خوب معلوم ہے کہ وہ (بڑے ہو کر) کیا عمل کرتے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۵۹۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع اللہ کا علم اور مشرکین کی اولاد کا معاملہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا۔ آپ نے جواب دیا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے۔ حدیث کے متن میں یہی مختصر جواب آیا ہے، اس لیے اس سے آگے فیصلہ کن بات اپنی طرف سے شامل نہیں کرنی چاہیے۔ اس حدیث میں بندے کو یہ ادب سکھایا گیا ہے کہ جن معاملات کا پورا علم ہمیں نہیں، انہیں اللہ کے علم کے سپرد کیا جائے۔ اللہ کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے، اور وہ جانتا ہے کہ اگر وہ بچے بڑے ہوتے تو کیا عمل کرتے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشرکین کی اولاد کے بارے میں معاملہ اللہ کے علم کے سپرد ہے۔
- ہر ایسی بات پر قطعی حکم نہیں لگانا چاہیے جس کا علم ہمیں نہیں۔
- اللہ جانتا ہے کہ لوگ کیا عمل کرتے یا کرتے۔
- دینی سوال کا جواب اسی حد تک دینا چاہیے جتنا حدیث میں آیا ہے۔
