صحیح بخاری حدیث ۶۵۹۶ - تقدیر اور عمل
تقدیر اور عمل کی حدیث: پھر عمل کیوں کریں؟
صحیح بخاری : ۶۵۹۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۹۶
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الرِّشْكُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُعْرَفُ أَهْلُ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : فَلِمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ ، قَالَ : " كُلٌّ يَعْمَلُ لِمَا خُلِقَ لَهُ ، أَوْ لِمَا يُسِّرَ لَهُ " .
عمران بن حصین روایت:
ایک صاحب نے (یعنی خود انہوں نے) عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا جنت کے لوگ جہنمیوں میں سے پہچانے جا چکے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں“ انہوں نے کہا کہ پھر عمل کرنے والے کیوں عمل کریں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شخص وہی عمل کرتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے یا جس کے لیے اسے سہولت دی گئی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۵۹۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع تقدیر اور عمل ہے۔ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا جنت والے اور جہنم والے پہچانے جا چکے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ پھر اس نے پوچھا کہ عمل کرنے والے کیوں عمل کریں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شخص وہی عمل کرتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے یا جس کے لیے اسے آسانی دی گئی ہے۔ اس حدیث میں تقدیر کو بہانہ بنا کر عمل چھوڑنے کی تعلیم نہیں، بلکہ عمل کی حقیقت بیان ہوئی ہے۔ انسان کو نیک عمل کرتے رہنا چاہیے، کیونکہ حدیث کے الفاظ کے مطابق ہر شخص کو اسی راستے کی سہولت ملتی ہے جس کے لیے وہ بنایا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تقدیر کا علم اللہ کے پاس ہے، مگر انسان عمل کرتا ہے۔
- عمل چھوڑنے کے لیے تقدیر کو بہانہ نہیں بنایا گیا۔
- ہر شخص کو اس عمل کی طرف آسانی دی جاتی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا۔
- سوال کرنا جائز ہے جب مقصد دین سمجھنا ہو۔
