صحیح بخاری حدیث ۱۳۵۷ - مستضعف مسلمانوں کا ذکر
مستضعف مسلمانوں کی حدیث: ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان
صحیح بخاری : ۱۳۵۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۵۷
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ : قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , يَقُولُ : " كُنْتُ أَنَا , وَأُمِّي مِنَ الْمُسْتَضْعَفِينَ ، أَنَا مِنَ الْوِلْدَانِ ، وَأُمِّي مِنَ النِّسَاءِ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
میں اور میری والدہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد مکہ میں) کمزور مسلمانوں میں سے تھے۔ میں بچوں میں اور میری والدہ عورتوں میں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳۵۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنا حال بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اور میری والدہ کمزور مسلمانوں میں سے تھے۔ پھر وضاحت کرتے ہیں کہ میں بچوں میں تھا اور میری والدہ عورتوں میں۔ متن مختصر ہے، مگر اس میں ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے کہ ابتدائی دور میں بعض مسلمان ایسے تھے جو حالات کے لحاظ سے کمزور سمجھے جاتے تھے۔ اس روایت میں کوئی لمبی تفصیل نہیں، اس لیے بات اسی حد تک رکھنی چاہیے۔ مستضعف مسلمانوں کی حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دین کے راستے میں ہر شخص کی حالت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ بچوں، عورتوں اور کمزور لوگوں کا ذکر بھی حدیث میں محفوظ ہے، اور ان کی حالت کو سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خود کو کمزور مسلمانوں میں شمار کیا۔
- بچوں اور عورتوں کی حالت الگ طور پر ذکر ہوئی۔
- روایت مختصر ہے، مگر کمزور طبقے کی طرف توجہ دلاتی ہے۔
- دین کے معاملے میں لوگوں کے حالات مختلف ہو سکتے ہیں۔
