صحیح بخاری حدیث ۳۱ - ماتحتوں کے حقوق اور حسن سلوک
ماتحتوں کے حقوق کی حدیث: وہ تمہارے بھائی ہیں
صحیح بخاری : ۳۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ ، عَنْ الْمَعْرُورِ ، قَالَ : لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ وَعَلَى غُلَامِهِ حُلَّةٌ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : إِنِّي سَابَبْتُ رَجُلًا فَعَيَّرْتُهُ بِأُمِّهِ ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، " أَعَيَّرْتَهُ بِأُمِّهِ ، إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ إِخْوَانُكُمْ خَوَلُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ ، وَلَا تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ ، فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ فَأَعِينُوهُمْ " .
معرور روایت:
میں ابوذر سے ربذہ میں ملا وہ ایک جوڑا پہنے ہوئے تھے اور ان کا غلام بھی جوڑا پہنے ہوئے تھا۔ میں نے اس کا سبب دریافت کیا تو کہنے لگے کہ میں نے ایک شخص یعنی غلام کو برا بھلا کہا تھا اور اس کی ماں کی غیرت دلائی (یعنی گالی دی) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ معلوم کر کے مجھ سے فرمایا اے ابوذر! تو نے اسے ماں کے نام سے غیرت دلائی، بیشک تجھ میں ابھی کچھ زمانہ جاہلیت کا اثر باقی ہے۔یاد رکھو) ماتحت لوگ تمہارے بھائی ہیں۔ اللہ نے (اپنی کسی مصلحت کی بنا پر) انہیں تمہارے قبضے میں دے رکھا ہے تو جس کے ماتحت اس کا کوئی بھائی ہو تو اس کو بھی وہی کھلائے جو آپ کھاتا ہے اور وہی کپڑا اسے پہنائے جو آپ پہنتا ہے اور ان کو اتنے کام کی تکلیف نہ دو کہ ان کے لیے مشکل ہو جائے اور اگر کوئی سخت کام ڈالو تو تم خود بھی ان کی مدد کرو۔
صحیح بخاری حدیث ۳۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوذر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔ انہوں نے ایک شخص کو اس کی ماں کے حوالے سے عار دلائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں ابھی جاہلیت کا اثر باقی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماتحت لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ تمہارے بھائی ہیں، اللہ نے انہیں تمہارے ماتحت کیا ہے۔ جس کے ماتحت اس کا بھائی ہو، وہ اسے وہی کھلائے جو خود کھاتا ہے اور وہی پہنائے جو خود پہنتا ہے۔ ان پر ایسا کام نہ ڈالو جو ان پر غالب آ جائے، اور اگر سخت کام دو تو خود بھی مدد کرو۔ یہ حدیث غلاموں، ملازمین، ماتحتوں کے حقوق اور حسن سلوک کے بارے میں بہت واضح ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی کو اس کی ماں یا خاندان کی وجہ سے عار دلانا جاہلیت کا اثر ہے۔
- ماتحت لوگوں کو بھائی سمجھ کر اچھا برتاؤ کرنا چاہیے۔
- خوراک اور لباس میں انصاف اور نرمی کا خیال رکھنا چاہیے۔
- مشکل کام دیا جائے تو مدد کرنا بھی اخلاق کا حصہ ہے۔
