صحیح بخاری حدیث ۳۲ - ظلم سے مراد شرک کی وضاحت
شرک بڑا ظلم ہے: آیت کی نبوی وضاحت
صحیح بخاری : ۳۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح قَالَ : وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الْعَسْكَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " لَمَّا نَزَلَتْ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82 ، قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّنَا لَمْ يَظْلِمْ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13 " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
جب سورۃ الانعام کی یہ آیت اتری جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان میں گناہوں کی آمیزش نہیں کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے کہا یا رسول اللہ! یہ تو بہت ہی مشکل ہے۔ ہم میں کون ایسا ہے جس نے گناہ نہیں کیا۔ تب اللہ پاک نے سورۃ لقمان کی یہ آیت اتاری «إن الشرك لظلم عظيم» کہ بیشک شرک بڑا ظلم ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک آیت سن کر مشکل محسوس کی کہ ایمان لانے کے بعد اپنے ایمان میں ظلم نہ ملانے والا کون ہے، ہم میں سے کس نے اپنے اوپر ظلم نہیں کیا؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے سورۃ لقمان کی آیت نازل فرمائی کہ بے شک شرک بڑا ظلم ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ظلم سے مراد عام گناہ نہیں، بلکہ شرک ہے۔ اس میں ایمان، ظلم، شرک بڑا ظلم ہے، صحابہ کا سوال اور قرآن کی وضاحت جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔ حدیث ہمیں الفاظ کو درست سمجھنے کی اہمیت بھی بتاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر جگہ لفظ ظلم کا ایک ہی مطلب نہیں ہوتا، یہاں مراد شرک بیان ہوئی۔
- صحابہ کرام مشکل بات سمجھنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرتے تھے۔
- شرک کو قرآن میں بڑا ظلم کہا گیا ہے۔
- قرآن کی آیت کو صحیح سمجھنے کے لیے نبوی وضاحت بہت اہم ہے۔
