صحیح بخاری حدیث ۳۳ - منافق کی تین نشانیاں
منافق کی تین نشانیاں: جھوٹ، وعدہ خلافی اور خیانت
صحیح بخاری : ۳۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ أَبُو سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ ، إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ " .
ابوہریرہ روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، منافق کی علامتیں تین ہیں۔ جب بات کرے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے اس کے خلاف کرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کی تین علامتیں بتائیں۔ جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف کرے، اور جب اسے امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔ یہ حدیث بہت مختصر ہے مگر انسان کے روزمرہ اخلاق کو سیدھا کرتی ہے۔ زبان، وعدہ اور امانت تینوں چیزیں لوگوں کے اعتماد سے جڑی ہیں۔ اگر ان میں خرابی آ جائے تو انسان کا معاملہ خطرناک ہو جاتا ہے۔ اس حدیث میں منافق کی علامات، جھوٹ بولنا، وعدہ خلافی، امانت میں خیانت اور اخلاقی خرابی جیسے سرچ الفاظ صاف موجود ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جھوٹ بولنا نفاق کی نشانیوں میں سے ہے۔
- وعدہ کر کے اسے توڑنا بہت بری عادت ہے۔
- امانت ملنے پر خیانت کرنا ایمان کے اخلاق کے خلاف ہے۔
- مسلمان کو اپنی زبان، وعدے اور امانت کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔
