صحیح بخاری حدیث ۴۸ - مسلمان کو گالی دینا فسق

مسلمان کو گالی دینا اور لڑائی کی سنگینی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا وَائِلٍ عَنِ الْمُرْجِئَةِ ، فَقَالَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ " .

عبداللہ بن مسعود روایت:

´ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے زبید بن حارث سے، کہا میں نے ابووائل سے مرجیہ کے بارے میں پوچھا، (وہ کہتے ہیں گناہ سے آدمی فاسق نہیں ہوتا) انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو گالی دینے سے آدمی فاسق ہو جاتا ہے اور مسلمان سے لڑنا کفر ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع مسلمان کی عزت اور لڑائی سے بچنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور مسلمان سے لڑنا کفر ہے۔ یہ الفاظ بہت سخت ہیں، اس لیے مسلمان کو اپنی زبان اور ہاتھ دونوں کی حفاظت کرنی چاہیے۔ حدیث میں بحث مرجیہ کے ذکر کے بعد آئی ہے، مگر اصل پیغام بہت واضح ہے کہ گناہ کو ہلکا نہ سمجھا جائے۔ کسی مسلمان کو برا بھلا کہنا عام بات نہیں، بلکہ دین میں اس کی سخت مذمت ہے۔ اسی طرح مسلمان سے لڑنا بہت سنگین معاملہ ہے۔ مسلمان کو گالی دینا، فسق، مسلمان سے لڑائی، زبان کی حفاظت اور بھائی چارہ اس حدیث کے اہم موضوعات ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مسلمان کو گالی دینا حدیث میں فسق کہا گیا ہے۔
  • مسلمان سے لڑائی کو بہت سخت لفظ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
  • زبان کی حفاظت مسلمان کے اخلاق کا حصہ ہے۔
  • دینی زندگی میں گناہوں کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں