صحیح بخاری حدیث ۶۰۳۵ - اچھے اخلاق والے بہترین لوگ
اچھے اخلاق والے بہترین لوگ: حسن اخلاق کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۰۳۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۳۵
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو يُحَدِّثُنَا ، إِذْ قَالَ : لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَإِنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا " .
مسروق روایت:
ہم عبداللہ بن عمرو کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہ ہم سے باتیں کر رہے تھے اسی دوران انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ بدگو تھے نہ بد زبانی کرتے تھے (کہ منہ سے گالیاں نکالیں) بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سب سے زیادہ بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔
صحیح بخاری حدیث ۶۰۳۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع حسن اخلاق ہے۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ بدگو تھے اور نہ بدزبانی کرتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان کیا کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اچھا مسلمان بننے میں زبان اور مزاج کا بڑا حصہ ہے۔ صرف عبادت کا دعویٰ کافی نہیں، آدمی کے گھر والوں، دوستوں، کمزور لوگوں اور عام لوگوں کے ساتھ سلوک سے بھی اس کا اخلاق ظاہر ہوتا ہے۔ اچھے اخلاق کی حدیث ہمیں نرم گفتگو، صاف زبان اور باوقار برتاؤ کی طرف بلاتی ہے، خاص طور پر جب اختلاف یا ناراضی ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بدگوئی اور بدزبانی سے بچنا نبی صلى الله عليه وسلم کی سنت سے ثابت ہے۔
- بہتری کا معیار اچھے اخلاق سے جڑا ہوا ہے۔
- زبان اور برتاؤ انسان کے اخلاق کو ظاہر کرتے ہیں۔
