صحیح بخاری حدیث ۶۰۱۸ - اچھی بات کہو یا خاموش رہو
اچھی بات یا خاموشی: ایمان والے کا اخلاق
صحیح بخاری : ۶۰۱۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۱۸
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات زبان سے نکالے ورنہ خاموش رہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۰۱۸ کا خلاصہ
یہ حدیث تین بڑے اخلاقی اصول ایک ساتھ بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے۔ جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ اور جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔ اس حدیث میں ایمان کو عملی اخلاق سے جوڑا گیا ہے۔ پڑوسی کے حقوق، مہمان نوازی، اور زبان کی حفاظت تینوں روزمرہ زندگی کے مسائل ہیں۔ اچھی بات یا خاموشی والی تعلیم خاص طور پر زبان کے استعمال کو سنبھالتی ہے۔ مسلمان کی گفتگو ایسی ہونی چاہیے جو خیر پر مبنی ہو؛ اگر خیر نہ ہو تو خاموشی بہتر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پڑوسی کو تکلیف نہ دینا ایمان والے کا اخلاق ہے۔
- مہمان کی عزت کرنا دینی تعلیم ہے۔
- زبان سے خیر کی بات کہنی چاہیے۔
- اگر اچھی بات نہ ہو تو خاموش رہنا بہتر ہے۔
