صحیح مسلم حدیث ۴۸ - متہم راوی کی روایت
متہم راوی سے حدیث لینے میں کیا احتیاط ہے؟
صحیح مسلم : ۴۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸
وحَدَّثَنِي حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَحْمَدُ وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ وَالْمُغِيرَةِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ الْحَارِثَ ، اتُّهِمَ.
ابراہیم روایت:
حارث متہم ہے (یعنی وہ منسوب کیا گیا کذب اور بدمذہبی سے)۔
صحیح مسلم حدیث ۴۸ کا خلاصہ
اس مختصر روایت میں ابراہیم کا قول ہے کہ حارث متہم تھا۔ متہم کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بارے میں ایسا الزام یا شبہ تھا جس کی وجہ سے اس کی روایت پر اعتماد مشکل ہو جاتا ہے۔ حدیث کی تحقیق میں یہ بہت حساس معاملہ ہے۔ محدثین ہر راوی کو ایک ہی درجے میں نہیں رکھتے تھے۔ کوئی ثقہ ہوتا، کوئی کمزور، کوئی متہم، اور کسی پر جھوٹ کا حکم لگایا جاتا۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ جس راوی کے بارے میں اعتماد مجروح ہو، اس سے روایت لینے میں احتیاط کی جاتی ہے۔ یہ اصول حدیث کی سند کو صاف رکھنے کے لیے ہے۔ عام قاری کو بھی سمجھنا چاہیے کہ دینی بات صرف خوبصورت الفاظ سے معتبر نہیں بنتی، بلکہ اس کے پیچھے قابل اعتماد سند بھی دیکھی جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- متہم راوی کی روایت کو عام ثقہ راوی کی طرح نہیں لیا جاتا۔
- راوی کے بارے میں شبہ حدیث کے اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے۔
- حدیث کی سند میں ہر راوی کی حالت دیکھی جاتی ہے۔
- دینی بات کی نسبت میں احتیاط علمی دیانت ہے۔
