صحیح مسلم حدیث ۲۷ - سند پوچھنے کا اصول

حدیث میں سند پوچھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَل ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : لَمْ يَكُونُوا يَسْأَلُونَ عَنِ الإِسْنَادِ ، فَلَمَّا وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ ، قَالُوا : سَمُّوا لَنَا رِجَالَكُمْ ، فَيُنْظَرُ إِلَى أَهْلِ السُّنَّةِ ، فَيُؤْخَذُ حَدِيثُهُمْ ، وَيُنْظَرُ إِلَى أَهْلِ الْبِدَعِ ، فَلَا يُؤْخَذُ حَدِيثُهُمْ

ابن سیرین روایت:

پہلے زمانے میں کوئی حدیث بیان کرتا تو اس سے سند نہ پوچھتے۔ پھر جب فتنہ پھیلا (یعنی گمراہی شروع ہوئی اور بدعتیں روافض اور خوارج اور مرجیہ اور قدریہ کی شائع ہوئیں) تو لوگوں نے کہا: اپنی اپنی سند بیان کرو۔ پھر دیکھا جائے گا اگر روایت کرنے والے اہل سنت ہیں تو قبول کی جائے گی روایت ان کی اور جو بدعتی ہیں تو نہ قبول کریں گے روایت ان کی۔

صحیح مسلم حدیث ۲۷ کا خلاصہ

ابن سیرین رحمہ اللہ کے اس قول میں سند حدیث کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ پہلے لوگ حدیث بیان کرتے تو سند نہیں پوچھی جاتی تھی۔ پھر جب فتنہ پھیلا اور مختلف غلط راستے سامنے آئے، تو لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ اپنے راویوں کے نام بتاؤ۔ پھر دیکھا جاتا کہ روایت کرنے والے اہل سنت ہیں تو ان کی حدیث لی جاتی، اور اہل بدعت سے روایت نہ لی جاتی۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ سند پوچھنا شک پھیلانے کے لیے نہیں تھا، بلکہ حدیث کی حفاظت کے لیے تھا۔ صحیح حدیث کی پہچان، راوی کی تحقیق اور جرح و تعدیل کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ دین کی بات قابل اعتماد راستے سے ملے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فتنہ کے بعد سند پوچھنا حدیث کی حفاظت کا ذریعہ بنا۔
  • راویوں کی پہچان کے بغیر روایت قبول کرنا خطرے کا سبب بن سکتا ہے۔
  • اہل علم روایت کے ساتھ راویوں کو بھی دیکھتے تھے۔
  • صحیح حدیث کی پہچان میں سند بنیادی کردار رکھتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں