صحیح مسلم حدیث ۲۶ - دین کس سے لینا چاہیے؟
یہ علم دین ہے، دیکھو کس سے دین لیتے ہو
صحیح مسلم : ۲۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ وَهِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، وَحَدَّثَنَا فُضَيْلٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَال : وَحَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ ، فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ دِينَكُمْ
محمد بن سیرین روایت:
یہ علم دین ہے تو دیکھو کس شخص سے تم دین حاصل کرتے ہو (یعنی ہر شخص کا اس میں اعتبار نہ کرو، جو سچا اور دیندار اور معتبر ہو اسی سے علم دین حاصل کرنا ضروری ہے)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۶ کا خلاصہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ کا یہ مختصر قول بہت گہرا سبق دیتا ہے: یہ علم دین ہے، اس لیے دیکھو کہ تم اپنا دین کس سے لے رہے ہو۔ یہاں اصل بات ماخذ علم کی ہے۔ دینی بات کسی سے بھی سن کر قبول کر لینا درست طریقہ نہیں۔ علم دین میں راوی کی پہچان، استاد کی دیانت، سند حدیث اور قابل اعتماد نقل کی بڑی اہمیت ہے۔ عام زندگی میں بھی ہم اہم بات کسی معتبر شخص سے لیتے ہیں، تو دین کے معاملے میں احتیاط زیادہ ہونی چاہیے۔ یہ قول ہمیں جذباتی نعروں کے بجائے ذمہ دارانہ رویہ سکھاتا ہے۔ صحیح حدیث، معتبر عالم اور قابل اعتماد روایت کو تلاش کرنا دین کے ساتھ سنجیدگی کی علامت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- علم دین لینے سے پہلے ماخذ کو دیکھنا چاہیے۔
- ہر بولنے والا دینی رہنمائی کا اہل نہیں ہوتا۔
- دین کے معاملے میں دیانت اور اعتماد بنیادی چیزیں ہیں۔
- صحیح علم کے لیے معتبر اہل علم سے رجوع کرنا چاہیے۔
