صحیح مسلم حدیث ۲۵ - روایت کی تصدیق کا علمی معیار
حدیث روایت میں تصدیق کا معیار
صحیح مسلم : ۲۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِى ابْنَ عَيَّاشٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ ، يَقُولُ : لَمْ يَكُنْ يَصْدُقُ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فِي الْحَدِيثِ عَنْهُ ، إِلَّا مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ.
ابوبکر بن عیاش روایت:
میں نے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جو لوگ روایت کرتے تھے ان کی روایت نہ مانی جاتی جب تک سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھی اس کی تصدیق نہ کرتے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۵ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کا قول نقل ہوا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والوں کی بات تب تک قبول نہ کی جاتی جب تک سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھی اس کی تصدیق نہ کرتے۔ اس سے حدیث روایت میں تصدیق کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ کسی شخصیت سے نسبت کافی نہیں، بلکہ روایت کرنے والے کی حالت اور اہل علم کی تائید بھی دیکھی جاتی ہے۔ یہ روایت خاص طور پر راوی کی تحقیق، صحیح حدیث کی پہچان اور سند حدیث کے موضوع سے جڑی ہے۔ دینی علم میں اعتماد کا مطلب اندھا اعتماد نہیں ہوتا۔ اہل علم نے بات کو جانچا، پہچانا اور پھر قبول کیا۔ یہی طریقہ حدیث کے علم کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ بنا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابی کی طرف منسوب روایت میں بھی راویوں کی حالت دیکھی جاتی تھی۔
- معتبر اہل علم کی تصدیق روایت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
- دینی بات قبول کرنے میں جلد بازی مناسب نہیں۔
- روایت کا معیار صرف مشہور نام نہیں، قابل اعتماد نقل بھی ہے۔
