صحیح مسلم حدیث ۲۴ - غلط نسبتوں سے علم کا بگاڑ
جھوٹی نسبتیں علم کو کیسے خراب کرتی ہیں؟
صحیح مسلم : ۲۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِى إِسْحَاق ، قَالَ : لَمَّا أَحْدَثُوا تِلْكَ الأَشْيَاءَ ، بَعْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ : قَاتَلَهُمُ اللَّهُ ، أَيَّ عِلْمٍ أَفْسَدُوا ؟
ابواسحاق روایت:
جب لوگوں نے ان باتوں کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعد نکالا (یعنی جھوٹی جھوٹی روایتیں ان سے شائع کیں) تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ایک رفیق بولے: اللہ ان کو تباہ کرے یا ان پر لعنت کرے کیسا علم کو بگاڑا (یعنی لوگوں کو گمرا کیا اور حدیث کے علم کا ستیاناس کیا)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۴ کا خلاصہ
اس روایت میں ابواسحاق بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعد لوگوں نے کچھ باتیں گھڑ کر ان کی طرف منسوب کیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ایک ساتھی نے اس پر سخت ناراضی ظاہر کی اور کہا کہ ان لوگوں نے علم کو بگاڑ دیا۔ یہاں اصل موضوع علم کی حفاظت ہے۔ جب کسی بڑے صحابی، عالم یا معتبر شخصیت کی طرف غلط بات منسوب کی جائے تو عام لوگ اسے دین سمجھ سکتے ہیں۔ اسی لیے حدیث کی تحقیق، سند حدیث، جرح و تعدیل اور راوی کی پہچان جیسے اصول اہم ہیں۔ یہ روایت ہمیں سکھاتی ہے کہ علم دین میں غلط نسبت معمولی بات نہیں۔ ایک غلط روایت لوگوں کی سمجھ کو بدل سکتی ہے، اس لیے احتیاط لازم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جھوٹی نسبت علم دین کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
- بڑے ناموں کی طرف غلط بات منسوب کرنا بہت سنگین معاملہ ہے۔
- اہل علم نے علم کے بگاڑ پر سخت رد عمل دیا۔
- حدیث اور دینی بات میں تحقیق لوگوں کو غلط فہمی سے بچاتی ہے۔
