صحیح مسلم حدیث ۲۳ - مشتبہ کتابی روایات کی چھان بین
مشتبہ روایات کو باقی نہ رکھنے کا محتاط طریقہ
صحیح مسلم : ۲۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : " أُتِيَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِكِتَابٍ ، فِيهِ قَضَاءُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، مَحَاهُ إِلَّا قَدْرَ ، وَأَشَارَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ بِذِرَاعِهِ
طاؤس روایت:
سيدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس سيدنا علی رضی اللہ عنہ کے فیصلوں کی کتاب آئی۔ انہوں نے سب کو مٹا دیا مگر ایک ہاتھ کے برابر رہنے دیا (جو فیصلہ صحیح تھا اس لیے کہ ان کو معلوم ہوا کہ روایت ان فیصلوں کی ٹھیک نہیں)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۳ کا خلاصہ
اس روایت میں طاؤس بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فیصلوں کی ایک کتاب آئی۔ انہوں نے اس میں سے تقریباً سب مٹا دیا اور صرف تھوڑا سا حصہ باقی رہنے دیا۔ متن کے مطابق وجہ یہ تھی کہ ان کے نزدیک وہ نسبت درست نہیں تھی، سوائے اس حصے کے جسے وہ صحیح سمجھتے تھے۔ اس سے حدیث کی چھان بین، روایت کی تحقیق اور دینی علم میں احتیاط کا بڑا واضح اصول ملتا ہے۔ صرف کتاب میں لکھا ہونا کافی نہیں۔ اہل علم یہ دیکھتے ہیں کہ بات کس سے منسوب ہے، اس کی پہچان کیا ہے، اور وہ قابل قبول ہے یا نہیں۔ یہ روایت خاص طور پر ان لوگوں کے لیے اہم ہے جو ہر لکھی ہوئی بات کو فوراً صحیح سمجھ لیتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر لکھی ہوئی دینی بات قابل قبول نہیں ہوتی جب تک اس کی تحقیق نہ ہو۔
- اہل علم مشتبہ نسبت کو باقی رکھنے میں بھی احتیاط کرتے تھے۔
- صحیح بات کو بچانا اور غیر معتبر بات کو الگ کرنا علم کی خدمت ہے۔
- کتاب یا نقل دیکھ کر فوراً حکم لگانے کے بجائے پہچان ضروری ہے۔
