صحیح مسلم حدیث ۳۱ - رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے روایت کا معیار

رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے حدیث صرف ثقہ لوگوں سے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ.ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ ، يَقُولُ : لَا يُحَدِّثُ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلَّا الثِّقَاتُ

سعد بن ابراہیم روایت:

نہیں حدیث قبول کی جاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مگر ثقہ لوگوں کی (جن کی روایت پر بھروسا ہو سکتا ہے)۔

صحیح مسلم حدیث ۳۱ کا خلاصہ

سعد بن ابراہیم رحمہ اللہ کا قول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث صرف ثقہ لوگوں ہی سے بیان کی جاتی ہے۔ یہ مختصر جملہ حدیث کے علم کا بڑا اصول ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی بات منسوب کرنا عام گفتگو جیسا نہیں۔ اس میں راوی کا قابل اعتماد ہونا، روایت کی سند، دیانت اور ضبط سب دیکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحیح حدیث کی پہچان میں ثقہ راوی کا ذکر بہت آتا ہے۔ یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ حدیث بیان کرنا ذمہ داری ہے۔ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تقاضا ہے کہ آپ کی طرف وہی بات نسبت کی جائے جو معتبر طریقے سے پہنچی ہو۔ اس لیے تحقیق حدیث اور جرح و تعدیل دین کی خدمت ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت میں ثقہ راوی ضروری ہے۔
  • حدیث بیان کرنا بڑی ذمہ داری ہے، عام بات نہیں۔
  • صحیح نسبت کے لیے سند اور راوی کی حالت دیکھی جاتی ہے۔
  • حدیث کی تحقیق محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں