صحیح مسلم حدیث ۳۰ - نیک ہونا اور حدیث کی اہلیت

ہر نیک شخص حدیث روایت کرنے کا اہل نہیں ہوتا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا الأَصْمَعِيُّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " أَدْرَكْتُ بِالْمَدِينَةِ مِائَةً ، كُلُّهُمْ مَأْمُونٌ ، مَا يُؤْخَذُ عَنْهُمُ الْحَدِيثُ ، يُقَالُ : لَيْسَ مِنْ أَهْلِهِ

ابوالزناد روایت:

میں مدینہ میں سو اشخاص کو پایا، سب کے سب اچھے تھے مگر ان سے حدیث کی روایت نہیں کی جاتی، لوگ کہتے تھے وہ اس لائق نہیں ہیں۔

صحیح مسلم حدیث ۳۰ کا خلاصہ

ابوالزناد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مدینہ میں سو افراد کو پایا، سب کے سب امانت دار تھے، مگر ان سے حدیث نہیں لی جاتی تھی۔ لوگ کہتے تھے کہ وہ حدیث کے اہل نہیں ہیں۔ اس سے ایک نہایت اہم بات معلوم ہوتی ہے: نیک ہونا اپنی جگہ بڑی خوبی ہے، مگر حدیث روایت کرنے کے لیے صرف نیکی کافی نہیں۔ یادداشت، ضبط، سمجھ، روایت کا طریقہ اور علمی اہلیت بھی ضروری ہے۔ اسی لیے جرح و تعدیل، راوی کی تحقیق اور صحیح حدیث کی پہچان جیسے اصول قائم ہوئے۔ یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ دینی علم میں محبت اور احترام کے ساتھ علمی معیار بھی ضروری ہے۔ کسی شخص کے اچھے ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی ہر روایت قابل قبول ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نیک اور امانت دار ہونا حدیث روایت کی مکمل اہلیت نہیں بناتا۔
  • حدیث کے لیے دیانت کے ساتھ علمی ضبط بھی ضروری ہے۔
  • اہل علم اچھے لوگوں کا احترام کرتے ہوئے بھی روایت میں معیار رکھتے تھے۔
  • دین کی بات میں شخصیت سے زیادہ قابل اعتماد نقل دیکھی جاتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں