صحیح مسلم حدیث ۲۹ - قابل اعتماد شخص سے روایت
روایت کا معیار: ساتھی معتبر ہو تو حدیث لو
صحیح مسلم : ۲۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ يَعْنِى ابْنَ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيَّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : قُلْتُ لِطَاوُسٍ : إِنَّ فُلَانًا حَدَّثَنِي بِكَذَا وَكَذَا ، قَالَ : إِنْ كَانَ صَاحِبُكَ مَلِيًّا ، فَخُذْ عَنْهُ
سلیمان بن موسیٰ روایت:
میں طاوَس سے کہا: فلاں شخص نے مجھ سے حدیث بیان کی ایسی اور ویسی۔ انہوں نے فرمایا اگر تیرا ساتھی معتبر ہے تو اس سے روایت کر حدیث کو۔
صحیح مسلم حدیث ۲۹ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی روایت کے ہم معنی ہے۔ سلیمان بن موسیٰ نے طاؤس رحمہ اللہ سے کہا کہ ایک شخص نے مجھے ایسی ایسی حدیث بیان کی۔ طاؤس رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر تمہارا ساتھی معتبر ہے تو اس سے حدیث لے لو۔ اس مختصر جواب میں حدیث کی تحقیق کا بنیادی اصول موجود ہے۔ دینی بات میں بات کرنے والے کا کردار، دیانت اور اعتماد دیکھا جاتا ہے۔ ہر روایت کو صرف اس لیے قبول نہیں کیا جاتا کہ وہ حدیث کے نام سے بیان ہوئی ہے۔ صحیح حدیث کی پہچان میں معتبر راوی، سند حدیث اور اہل علم کی جانچ اہم ہیں۔ یہ روایت ہمیں اعتدال سکھاتی ہے: نہ ہر شخص کو فوراً رد کرو، نہ ہر بات کو فوراً قبول کرو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث روایت کرنے والے کا معتبر ہونا بنیادی شرط ہے۔
- روایت قبول کرنے میں احتیاط اور اعتماد دونوں ضروری ہیں۔
- دینی بات میں راوی کی حالت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
- اہل علم کا طریقہ متوازن تھا: تحقیق کے بعد قبول کرنا۔
