صحیح مسلم حدیث ۲۸ - معتبر راوی سے حدیث لینا
حدیث اسی سے لو جو معتبر ہو
صحیح مسلم : ۲۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : لَقِيتُ طَاوُسًا ، فَقُلْتُ : حَدَّثَنِي فُلَانٌ ، كَيْتَ وَكَيْتَ ، قَالَ : " إِنْ كَانَ صَاحِبُكَ مَلِيًّا ، فَخُذْ عَنْهُ
سلیمان بن موسیٰ روایت:
میں طاوَس سے ملا اور میں نے کہا: فلاں شخص نے مجھ سے حدیث بیان کی ایسی اور ویسی۔ انہوں نے کہا: اگر وہ معتبر ہے (یعنی اس کی دیانت اور امانت پر بھروسہ ہو سکتا ہے جیسے مالدار خوش معاملہ کی بات کا اعتبار ہوتا ہے) تو اس سے روایت کر حدیث کو۔
صحیح مسلم حدیث ۲۸ کا خلاصہ
سلیمان بن موسیٰ نے طاؤس رحمہ اللہ سے ایک شخص کی بیان کردہ حدیث کا ذکر کیا۔ طاؤس رحمہ اللہ نے سادہ جواب دیا کہ اگر تمہارا ساتھی معتبر ہے تو اس سے حدیث لے لو۔ یہاں لفظ معتبر راوی اصل نکتہ ہے۔ حدیث کی روایت میں صرف بات کا اچھا لگنا کافی نہیں، بلکہ بیان کرنے والے کی حالت دیکھی جاتی ہے۔ اگر راوی دیانت، امانت اور اعتماد کے معیار پر پورا اترتا ہو تو اس کی روایت لی جا سکتی ہے۔ یہ روایت صحیح حدیث کی پہچان، راوی کی تحقیق اور حدیث قبول کرنے کے اصول کو آسان الفاظ میں سمجھاتی ہے۔ دینی علم میں احتیاط کا مطلب ہر شخص کو رد کرنا نہیں، بلکہ قابل اعتماد شخص سے لینا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث لینے میں راوی کا معتبر ہونا ضروری ہے۔
- اچھا مضمون کافی نہیں، بیان کرنے والے کا اعتماد بھی دیکھا جاتا ہے۔
- اہل علم نے روایت قبول کرنے کے لیے واضح معیار رکھا۔
- دین کی بات میں بھروسہ دیانت اور امانت سے جڑا ہے۔
