صحیح مسلم حدیث ۴۷ - راوی کے بڑے دعوے اور احتیاط
راوی کے دعووں کو پرکھنا حدیث کی تحقیق کا حصہ ہے
صحیح مسلم : ۴۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ الْحَارِثَ ، قَالَ : تَعَلَّمْتُ الْقُرْآنَ فِي ثَلَاثِ سِنِينَ ، وَالْوَحْيَ فِي سَنَتَيْنِ ، أَوَ قَالَ : الْوَحْيَ فِي ثَلَاثِ سِنِينَ وَالْقُرْآنَ فِي سَنَتَيْنِ ،
ابراہیم روایت:
حارث نے کہا کہ میں نے قرآن کو تین برس میں سیکھا اور وحی کو دو برس میں یا کہا وحی کو تین برس میں پڑھا اور قرآن کو دو برس میں۔
صحیح مسلم حدیث ۴۷ کا خلاصہ
اس روایت میں ابراہیم کے واسطے سے حارث کا قول نقل ہوا ہے کہ اس نے قرآن تین برس میں اور وحی دو برس میں سیکھی، یا اس کے برعکس کہا۔ روایت میں الفاظ کے بارے میں بھی تردد آیا ہے، اس لیے اسے اسی احتیاط کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔ اس کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ محدثین راویوں کے دعووں کو محفوظ کرتے تھے اور ان سے راوی کی حالت سمجھتے تھے۔ حدیث کی سند میں راوی کی ثقاہت، اس کے قول کی پختگی، اور بیان کی درستی اہم ہے۔ جب کوئی شخص قرآن اور وحی کے بارے میں بڑے دعوے کرے تو اہل علم اس کی بات کو عام دعویٰ سمجھ کر نہیں چھوڑتے، بلکہ دیکھتے ہیں کہ یہ دعویٰ روایت کے اعتماد پر کیا اثر ڈالتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- راوی کے بڑے دعوے حدیث کی تحقیق میں نظر انداز نہیں کیے جاتے۔
- الفاظ میں تردد ہو تو روایت کو اسی احتیاط سے بیان کرنا چاہیے۔
- قرآن اور وحی سے متعلق بات میں سنجیدگی ضروری ہے۔
- محدثین راوی کی شخصیت نہیں، اس کی روایت کے اعتماد کو دیکھتے تھے۔
