صحیح مسلم حدیث ۴۶ - قرآن اور وحی کے دعوے کی جانچ

غیر واضح دعووں پر حدیث کے اہل علم کی احتیاط

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : قَالَ عَلْقَمَةُ : قَرَأْتُ الْقُرْآنَ فِي سَنَتَيْنِ ، فَقَالَ الْحَارِثُ : الْقُرْآنُ هَيِّنٌ ، الْوَحْيُ أَشَدُّ ،

ابراہیم نخعی روایت:

علقمہ نے (جو مصاحب تھے عبداللہ بن مسعود کے) کہا: میں نے قرآن کو دو برس میں پڑھا۔ حارث کہنے لگا: قرآن آسان ہے لیکن وحی مشکل ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۴۶ کا خلاصہ

اس روایت میں علقمہ کا قول نقل ہوا کہ انہوں نے قرآن دو برس میں پڑھا۔ اس پر حارث نے کہا کہ قرآن آسان ہے، لیکن وحی مشکل ہے۔ متن میں مزید تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے بات کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے کہ محدثین ایسے اقوال کو بھی نوٹ کرتے تھے جن سے کسی راوی کے مزاج یا فکر کا اندازہ ہو۔ حدیث کی تحقیق میں صرف الفاظ یاد ہونا کافی نہیں، بلکہ راوی کے دعوے، اس کی بات کا انداز، اور اہل علم کے نزدیک اس کی حالت بھی دیکھی جاتی ہے۔ یہاں اصل سبق یہ ہے کہ دین سے متعلق بڑے دعووں میں احتیاط لازم ہے۔ قرآن، وحی، اور حدیث جیسے الفاظ بہت سنجیدہ ہیں، اس لیے ان کے بارے میں غیر معمولی بات کہنے والے کی جانچ ضروری ہو جاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی الفاظ کے بارے میں غیر معمولی دعووں کو احتیاط سے دیکھا جاتا ہے۔
  • راوی کے اقوال اس کی حالت سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
  • قرآن اور وحی کے معاملے میں بے احتیاط گفتگو مناسب نہیں۔
  • حدیث کی تحقیق میں صرف روایت نہیں، راوی کا رویہ بھی دیکھا جاتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں