صحیح بخاری حدیث ۶۱۳۶ - پڑوسی، مہمان اور اچھی بات
پڑوسی اور مہمان کے حقوق کی حدیث: اچھی بات یا خاموشی
صحیح بخاری : ۶۱۳۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۳۶
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اس پر لازم ہے کہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے، جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اس پر لازم ہے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اس پر لازم ہے کہ بھلی بات کہے ورنہ چپ رہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۱۳۶ کا خلاصہ
یہ پڑوسی کے حق، مہمان کی عزت اور اچھی بات یا خاموشی کی حدیث ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے تین باتیں ایمان کے ساتھ جوڑ کر بیان فرمائیں: جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے؛ وہ اپنے مہمان کی عزت کرے؛ اور وہ بھلی بات کہے یا خاموش رہے۔ یہ حدیث روزمرہ معاشرت کو بہت آسان الفاظ میں سنوارتی ہے۔ مسلمان صرف عبادت تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کا ایمان اس کے گھر، محلے، زبان اور مہمان نوازی میں بھی نظر آتا ہے۔ پڑوسی کو تکلیف دینا، مہمان کو نظر انداز کرنا، یا زبان سے نقصان پہنچانا اس تعلیم کے خلاف ہے۔ اس لیے یہ روایت اچھے معاشرے کی بنیاد بتاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پڑوسی کو تکلیف نہ دینا ایمان والے اخلاق میں شامل ہے۔
- مہمان کی عزت کرنا دینی ادب کا حصہ ہے۔
- زبان سے خیر نکلے تو بولنا، ورنہ خاموش رہنا بہتر ہے۔
- ایمان کا اثر انسان کے معاشرتی برتاؤ میں بھی ظاہر ہونا چاہیے۔
