صحیح بخاری حدیث ۶۱۳۵ - اچھی بات یا خاموشی
اچھی بات یا خاموشی کی حدیث: زبان کی حفاظت کا آسان اصول
صحیح بخاری : ۶۱۳۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۳۵
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، مِثْلَهُ . وَزَادَ " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ " .
امام مالک روایت:
´ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے اسی طرح بیان کیا` اور یہ لفظ زیادہ کئے کہ جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اچھی بات کہنی چاہیئے ورنہ اسے چپ رہنا چاہیئے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۱۳۵ کا خلاصہ
یہ اچھی بات یا خاموشی کی حدیث ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے اچھی بات کہنی چاہیے یا خاموش رہنا چاہیے۔ یہ جملہ بہت مختصر ہے، مگر روزمرہ زندگی کے لیے بہت کام کا ہے۔ ہر بات بولنا ضروری نہیں ہوتا۔ اگر زبان سے خیر نکل رہی ہو، بھلی بات ہو، کسی کی اصلاح ہو، تسلی ہو، یا فائدہ ہو تو بولنا اچھا ہے۔ لیکن اگر بات فضول، تکلیف دینے والی یا بے فائدہ ہو تو خاموشی بہتر ہے۔ اس حدیث میں زبان کی حفاظت کو ایمان کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اس لیے گفتگو سے پہلے ایک سادہ سوال کافی ہے: کیا یہ بات خیر ہے؟ اگر نہیں تو چپ رہنا زیادہ محفوظ راستہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایمان والے کی زبان خیر کی عادی ہونی چاہیے۔
- ہر بات کہنا ضروری نہیں؛ کبھی خاموشی بہتر ہوتی ہے۔
- بولنے سے پہلے بات کے فائدے اور نقصان کو دیکھنا چاہیے۔
- اچھی گفتگو ایمان والے اخلاق کا حصہ ہے۔
