صحیح بخاری حدیث ۶۱۳۸ - مہمان، رشتہ داری اور زبان
مہمان نوازی اور صلہ رحمی کی حدیث: اچھی بات یا خاموشی
صحیح بخاری : ۶۱۳۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۳۸
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی عزت کرنی چاہیئے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ وہ صلہ رحمی کرے، جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیئے کہ اچھی بات زبان سے نکالے ورنہ چپ رہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۱۳۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ایمان والے کے لیے تین واضح ہدایات بیان فرمائیں۔ جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے اپنے مہمان کی عزت کرنی چاہیے۔ اسے صلہ رحمی کرنی چاہیے، یعنی رشتہ داروں کے ساتھ تعلق جوڑنا چاہیے۔ اور اسے اچھی بات کہنی چاہیے یا خاموش رہنا چاہیے۔ یہ روایت گھر، خاندان اور زبان تینوں کو ایک ساتھ سنوارتی ہے۔ مہمان کے ساتھ عزت، رشتہ داروں کے ساتھ تعلق، اور گفتگو میں خیر؛ یہ سب ایمان کے عملی اثرات ہیں۔ حدیث میں کوئی پیچیدہ بحث نہیں، بلکہ ایک سیدھا اصول ہے کہ انسان کا ایمان اس کے برتاؤ میں نظر آئے۔ اس لیے یہ حدیث روزمرہ زندگی کے لیے بہت عملی رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مہمان کی عزت کرنا ایمان والے کردار کا حصہ ہے۔
- رشتہ داروں سے تعلق جوڑنا دینی ہدایت میں شامل ہے۔
- زبان سے خیر نکلے تو بولنا، ورنہ خاموش رہنا بہتر ہے۔
- ایمان کا تعلق صرف اندرونی دعوے سے نہیں، عمل سے بھی ہے۔
