صحیح بخاری حدیث ۶۰۱۷ - پڑوسن کو معمولی ہدیہ بھی حقیر نہ سمجھو
پڑوسی کو ہدیہ: چھوٹی نیکی کو حقیر نہ سمجھو
صحیح بخاری : ۶۰۱۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۱۷
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ هُوَ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ " .
´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا وہ سعید مقبری ہیں، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے ”اے مسلمان عورتو! تم میں سے کوئی عورت اپنی کسی پڑوسن کے لیے کسی بھی چیز کو (ہدیہ میں) دینے کے لیے حقیر نہ سمجھے خواہ بکری کا پایہ ہی کیوں نہ ہو۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۰۱۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں پڑوسن کے ساتھ ہدیہ دینے اور تعلق کو بہتر رکھنے کی ایک آسان تعلیم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اے مسلمان عورتو! تم میں سے کوئی عورت اپنی پڑوسن کے لیے کسی چیز کو حقیر نہ سمجھے، خواہ بکری کا پایہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہدیہ کی قیمت سے زیادہ اہم بات دل کا تعلق، خیر خواہی اور دینا ہے۔ کبھی انسان چھوٹی چیز کو معمولی سمجھ کر دینے سے رک جاتا ہے، حالانکہ حدیث اس سوچ کو درست کرتی ہے۔ پڑوسی کے حقوق میں محبت اور میل جول کا پہلو بھی ہے۔ اس حدیث سے یہی سمجھ آتا ہے کہ پڑوسن کو چھوٹا ہدیہ دینا بھی اچھے تعلق کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے معمولی نیکی کو حقیر نہ جانا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- چھوٹے ہدیے کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔
- پڑوسن کے ساتھ اچھا تعلق اہم ہے۔
- نیکی کی قیمت صرف مال کی مقدار سے نہیں دیکھی جاتی۔
- سادہ ہدیہ بھی دلوں کو قریب کر سکتا ہے۔
