صحیح بخاری حدیث ۱۳ - بھائی کے لیے وہی پسند کرنا
ایمان کی نشانی: بھائی کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند ہے
صحیح بخاری : ۱۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ " .
انس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہ ہو گا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ نہ چاہے جو اپنے نفس کے لیے چاہتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳ کا خلاصہ
یہ حدیث ایمان اور بھائی چارے کا ایک بنیادی اصول بتاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہیں ہو گا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ نہ چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اپنی پسند، بھلائی اور فائدے کو صرف اپنے تک محدود نہ رکھے۔ جیسے وہ اپنے لیے خیر، عزت، آسانی اور بھلائی چاہتا ہے، ویسی ہی خیر اپنے بھائی کے لیے بھی پسند کرے۔ حدیث میں بہت مختصر الفاظ ہیں، مگر یہ انسان کے دل کو بدلنے والی بات ہے۔ اس سے حسد، خود غرضی اور دوسروں کے نقصان کی سوچ سے بچنے کی تعلیم ملتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایمان کا تعلق دل کی خیرخواہی سے بھی ہے۔
- اپنے بھائی کے لیے وہی بھلائی پسند کرنی چاہیے جو اپنے لیے پسند ہو۔
- خود غرضی سے بچنا اس حدیث کے پیغام میں شامل ہے۔
- مسلمانوں کے باہمی تعلقات خیرخواہی پر قائم ہونے چاہییں۔
