صحیح بخاری حدیث ۱۲ - کھانا کھلانا اور سلام کرنا

بہتر اسلام: کھانا کھلانا اور سب کو سلام کرنا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ، يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " تُطْعِمُ الطَّعَامَ ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ " .

عبداللہ بن عمرو بن عاص روایت:

ایک دن ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا اسلام بہتر ہے؟ فرمایا کہ تم کھانا کھلاؤ، اور جس کو پہچانو اس کو بھی اور جس کو نہ پہچانو اس کو بھی، الغرض سب کو سلام کرو۔

صحیح بخاری حدیث ۱۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا اسلام بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا کہ تم کھانا کھلاؤ، اور جسے پہچانو اسے بھی سلام کرو اور جسے نہ پہچانو اسے بھی سلام کرو۔ یہ حدیث معاشرتی اخلاق کو بہت آسان انداز میں سمجھاتی ہے۔ کھانا کھلانا ضرورت مند، مہمان یا عام لوگوں کے ساتھ خیرخواہی کا عمل ہے۔ سلام کرنا محبت، امن اور اچھے تعلقات کا ذریعہ ہے۔ حدیث میں یہ بھی بتایا گیا کہ سلام صرف جاننے والوں تک محدود نہیں۔ بہتر اسلام یہ ہے کہ آدمی اپنے دل اور زبان سے دوسروں کے لیے بھلائی کا رویہ رکھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کھانا کھلانا بہتر اسلام کے کاموں میں بیان ہوا ہے۔
  • سلام جاننے والوں اور نہ جاننے والوں دونوں کو کیا جائے۔
  • سلام معاشرے میں امن اور محبت بڑھانے کا ذریعہ ہے۔
  • اسلام دوسروں کے ساتھ اچھے برتاؤ کی تعلیم دیتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں