صحیح بخاری حدیث ۱۱ - افضل اسلام اور سلامتی
افضل اسلام: مسلمان کی زبان اور ہاتھ سے سلامتی
صحیح بخاری : ۱۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقُرَشِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " .
ابوموسیٰ روایت:
لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! کون سا اسلام افضل ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جس کے ماننے والے مسلمانوں کی زبان اور ہاتھ سے سارے مسلمان سلامتی میں رہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں صحابہ نے سوال کیا کہ کون سا اسلام افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ وہ اسلام جس میں مسلمان آدمی کی زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں۔ یہ بات بہت سیدھی ہے، مگر زندگی کے ہر معاملے سے جڑی ہوئی ہے۔ کبھی انسان زبان سے کسی کو تکلیف دیتا ہے، کبھی ہاتھ سے یا عمل سے نقصان پہنچاتا ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اچھا اسلام صرف دعوے کا نام نہیں، بلکہ لوگوں کو ہمارے شر سے امن ملنا چاہیے۔ افضل اسلام کی حدیث کا اصل پیغام یہی ہے کہ مسلمان اپنے رویے، گفتگو اور عمل میں دوسروں کے لیے امن کا باعث بنے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- افضل اسلام میں دوسروں کی سلامتی کا خیال رکھا جاتا ہے۔
- زبان کا استعمال محتاط اور پاکیزہ ہونا چاہیے۔
- ہاتھ اور عمل سے نقصان پہنچانے سے بچنا چاہیے۔
- اسلام کا حسن انسان کے اخلاق میں ظاہر ہوتا ہے۔
