صحیح بخاری حدیث ۱۴ - رسول اللہ سے محبت ایمان کا تقاضا
رسول اللہ سے محبت: ایمان کا ضروری تقاضا
صحیح بخاری : ۱۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ تم میں سے کوئی بھی ایماندار نہ ہو گا جب تک میں اس کے والد اور اولاد سے بھی زیادہ اس کا محبوب نہ بن جاؤں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا مقام بیان ہوا ہے۔ آپ نے قسم کھا کر فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایماندار نہیں ہو گا جب تک میں اس کے والد اور اولاد سے بھی زیادہ محبوب نہ بن جاؤں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ایمان کا بہت بنیادی حصہ ہے۔ والد اور اولاد انسان کو بہت عزیز ہوتے ہیں، مگر ایمان کا تقاضا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ان سب سے بڑھ کر ہو۔ یہ محبت صرف زبان کا دعویٰ نہیں، بلکہ آپ کی بات کو ماننے، آپ کی تعلیم سے محبت کرنے اور آپ کے ادب کو دل میں رکھنے سے ظاہر ہوتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔
- آپ کی محبت والد اور اولاد کی محبت سے بڑھ کر ہونی چاہیے۔
- حدیث میں اس بات کو قسم کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دل اور عمل دونوں سے جڑی ہے۔
