صحیح بخاری حدیث ۱۵ - محبت رسول سب سے بڑھ کر
محبت رسول کی حدیث: سب لوگوں سے بڑھ کر محبت
صحیح بخاری : ۱۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " .
انس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہ ہو گا جب تک اس کے والد اور اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ اس کے دل میں میری محبت نہ ہو جائے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۵ کا خلاصہ
یہ حدیث محبت رسول کے موضوع کو بہت واضح کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہیں ہو گا جب تک میں اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ حدیث میں محبت کی ترتیب کو بہت مضبوط انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ انسان والدین، اولاد اور لوگوں سے محبت کرتا ہے، مگر ایمان کا تقاضا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ان سب پر غالب ہو۔ اس محبت کا مطلب آپ کی رسالت کو ماننا، آپ کی بات کو اہم سمجھنا، اور آپ کی تعلیم سے دل کا تعلق رکھنا ہے۔ یہ حدیث ایمان اور محبت رسول کو ایک ساتھ جوڑتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت تمام لوگوں سے بڑھ کر ہونی چاہیے۔
- ایمان اور محبت رسول کا گہرا تعلق ہے۔
- والدین اور اولاد کی محبت کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت مقدم ہے۔
- محبت رسول دل کے ایمان کو مضبوط کرنے والی صفت ہے۔
