صحیح بخاری حدیث ۴۷ - جنازے کے ساتھ جانے کا اجر

جنازے کے ساتھ جانے کا ثواب اور نیت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ الْمَنْجُوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ الْحَسَنِ ، وَمُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَةَ مُسْلِمٍ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا وَكَانَ مَعَهُ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا وَيَفْرُغَ مِنْ دَفْنِهَا ، فَإِنَّه يَرْجِعُ مِنَ الْأَجْرِ بِقِيرَاطَيْنِ كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ قَبْلَ أَنْ تُدْفَنَ ، فَإِنَّهُ يَرْجِعُ بِقِيرَاطٍ " ، تَابَعَهُ عُثْمَانُ الْمُؤَذِّنُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو کوئی ایمان رکھ کر اور ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ جائے اور نماز اور دفن سے فراغت ہونے تک اس کے ساتھ رہے تو وہ دو قیراط ثواب لے کر لوٹے گا ہر قیراط اتنا بڑا ہو گا جیسے احد کا پہاڑ، اور جو شخص جنازے پر نماز پڑھ کر دفن سے پہلے لوٹ جائے تو وہ ایک قیراط ثواب لے کر لوٹے گا۔روح کے ساتھ اس حدیث کو عثمان مؤذن نے بھی روایت کیا ہے۔ کہا ہم سے عوف نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن سیرین سے سنا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اگلی روایت کی طرح۔

صحیح بخاری حدیث ۴۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع جنازہ، ایمان اور ثواب کی نیت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ جائے، پھر نماز جنازہ اور دفن تک ساتھ رہے، وہ دو قیراط اجر لے کر واپس آئے گا۔ ہر قیراط کو احد پہاڑ کے برابر بتایا گیا ہے۔ جو شخص صرف نماز جنازہ پڑھ کر دفن سے پہلے واپس آ جائے، اسے ایک قیراط اجر ملتا ہے۔ اس روایت میں نیت کا پہلو بھی بہت صاف ہے، کیونکہ جنازے میں شرکت صرف رسم کے طور پر نہیں، بلکہ ایمان اور احتساب کے ساتھ ہو۔ جنازہ، نماز جنازہ، دفن تک ساتھ رہنا، قیراط اجر اور ثواب کی نیت اس حدیث کے اہم سرچ موضوعات ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جنازے میں ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ شریک ہونا اجر کا سبب ہے۔
  • نماز جنازہ پڑھنے پر ایک قیراط اجر کا ذکر ہے۔
  • دفن تک ساتھ رہنے پر دو قیراط اجر کا بیان ہے۔
  • نیک کاموں میں نیت کو درست رکھنا ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں