صحیح بخاری حدیث ۴۶ - اسلام کے بنیادی فرائض

اسلام کے فرائض: نماز، روزہ اور زکوٰۃ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَمِّه أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ يُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِهِ وَلَا يُفْقَهُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا ، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْإِسْلَامِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ ، فَقَالَ : هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا ؟ قَالَ : لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَصِيَامُ رَمَضَانَ ، قَالَ : هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ ؟ قَالَ : لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ ، قَالَ : وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ ، قَالَ : هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا ؟ قَالَ : لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ ، قَالَ : فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ : وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلَا أَنْقُصُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ " .

طلحہ بن عبیداللہ روایت:

نجد والوں میں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، سر پریشان یعنی بال بکھرے ہوئے تھے، ہم اس کی آواز کی بھنبھناہٹ سنتے تھے اور ہم سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ یہاں تک کہ وہ نزدیک آن پہنچا، جب معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے بارے میں پوچھ رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنا ہے، اس نے کہا بس اس کے سوا تو اور کوئی نماز مجھ پر نہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں مگر تو نفل پڑھے (تو اور بات ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ اس نے کہا اور تو کوئی روزہ مجھ پر نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں مگر تو نفل روزے رکھے (تو اور بات ہے) طلحہ نے کہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زکوٰۃ کا بیان کیا۔وہ کہنے لگا کہ بس اور کوئی صدقہ مجھ پر نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں مگر یہ کہ تو نفل صدقہ دے (تو اور بات ہے) راوی نے کہا پھر وہ شخص پیٹھ موڑ کر چلا۔ یوں کہتا جاتا تھا، قسم اللہ کی میں نہ اس سے بڑھاؤں گا نہ گھٹاؤں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ سچا ہے تو اپنی مراد کو پہنچ گیا۔

صحیح بخاری حدیث ۴۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں اسلام کے بنیادی فرائض کا آسان بیان ہے۔ نجد کا ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اسلام کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنا اسلام میں فرض ہے۔ اس نے پوچھا کہ کیا اس کے علاوہ بھی کوئی نماز لازم ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں، مگر نفل پڑھو تو الگ بات ہے۔ پھر رمضان کے روزوں کا ذکر فرمایا، پھر زکوٰۃ کا بیان کیا۔ ہر بار اس شخص نے پوچھا کہ کیا اس کے علاوہ کچھ لازم ہے؟ جواب یہی ملا کہ نہیں، مگر نفل ہو تو الگ بات ہے۔ آخر میں اس شخص نے کہا کہ میں نہ بڑھاؤں گا نہ گھٹاؤں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ سچا ہے تو کامیاب ہو گیا۔ اس حدیث میں فرض عبادت، نفل عمل، پانچ نمازیں، رمضان روزہ اور زکوٰۃ کی بات واضح ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • پانچ وقت کی نماز اسلام کے بنیادی فرائض میں ہے۔
  • رمضان کے روزے فرض ہیں، نفل روزے الگ ہیں۔
  • زکوٰۃ کا ادا کرنا اسلام کے اہم فرائض میں شامل ہے۔
  • فرض اعمال کو سچائی کے ساتھ ادا کرنا کامیابی کا سبب بتایا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں