صحیح بخاری حدیث ۱۸۹۱ - پانچ نمازیں، رمضان روزے اور زکوٰۃ

اسلام کے بنیادی فرائض: نماز، روزہ اور زکوٰۃ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۹۱

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَائِرَ الرَّأْسِ ، فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي مَاذَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ ؟ فَقَالَ : الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ ، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ شَيْئًا ، فَقَالَ : أَخْبِرْنِي مَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الصِّيَامِ ؟ فَقَالَ : شَهْرَ رَمَضَانَ ، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ شَيْئًا ، فَقَالَ : أَخْبِرْنِي بِمَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الزَّكَاةِ ؟ فَقَالَ : فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ ، قَالَ : وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لَا أَتَطَوَّعُ شَيْئًا وَلَا أَنْقُصُ مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ شَيْئًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ ، أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنْ صَدَقَ " .

طلحہ بن عبیداللہ روایت:

ایک اعرابی پریشان حال بال بکھرے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے پوچھا: یا رسول اللہ! بتائیے مجھ پر اللہ تعالیٰ نے کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ نمازیں، یہ اور بات ہے کہ تم اپنی طرف سے نفل پڑھ لو، پھر اس نے کہا بتائیے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر روزے کتنے فرض کئے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کے مہینے کے، یہ اور بات ہے کہ تم خود اپنے طور پر کچھ نفلی روزے اور بھی رکھ لو، پھر اس نے پوچھا اور بتائیے زکوٰۃ کس طرح مجھ پر اللہ تعالیٰ نے فرض کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شرع اسلام کی باتیں بتا دیں۔جب اس اعرابی نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت دی نہ میں اس میں اس سے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فرض کر دیا ہے کچھ بڑھاؤں گا اور نہ گھٹاؤں گا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ مراد کو پہنچایا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ) اگر سچ کہا ہے تو جنت میں جائے گا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۸۹۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع اسلام کے فرائض ہیں۔ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ آپ نے فرمایا: پانچ نمازیں، ہاں اگر تم نفل پڑھو تو الگ بات ہے۔ پھر اس نے روزوں کے بارے میں پوچھا تو آپ نے رمضان کے مہینے کے روزے فرض بتائے، اور نفلی روزوں کی گنجائش بھی ذکر فرمائی۔ پھر اس نے زکوٰۃ کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی شرعی باتیں بتائیں۔ اس اعرابی نے قسم کھا کر کہا کہ فرض میں نہ کمی کرے گا نہ زیادتی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس نے سچ کہا تو کامیاب ہوگا یا جنت میں جائے گا۔ حدیث میں فرائض کی پابندی اور سچائی کو بہت اہم بتایا گیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • پانچ نمازیں فرض ہیں، نفل نماز اپنی طرف سے اضافی عمل ہے۔
  • رمضان کے روزے فرض ہیں، نفلی روزے الگ عمل ہیں۔
  • زکوٰۃ اسلام کے اہم فرائض میں شامل ہے۔
  • فرض اعمال کو سچائی کے ساتھ ادا کرنا کامیابی کا سبب بتایا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں