صحیح بخاری حدیث ۶۹۵۶ - فرض عبادات کی پابندی
فرض عبادات: نماز، روزہ اور زکوٰۃ کا سیدھا راستہ
صحیح بخاری : ۶۹۵۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۵۶
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، " أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَائِرَ الرَّأْسِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي مَاذَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ ؟ ، فَقَالَ : الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ ، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ شَيْئًا ، فَقَالَ : أَخْبِرْنِي بِمَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الصِّيَامِ ؟ ، قَالَ : شَهْرَ رَمَضَانَ ، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ شَيْئًا ، قَالَ : أَخْبِرْنِي بِمَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الزَّكَاةِ ؟ ، قَالَ : فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ ، قَالَ : وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لَا أَتَطَوَّعُ شَيْئًا ، وَلَا أَنْقُصُ مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ شَيْئًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ ، أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنْ صَدَقَ " ، وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ فِي عِشْرِينَ وَمِائَةِ بَعِيرٍ حِقَّتَانِ ، فَإِنْ أَهْلَكَهَا مُتَعَمِّدًا ، أَوْ وَهَبَهَا ، أَوِ احْتَالَ فِيهَا فِرَارًا مِنَ الزَّكَاةِ ، فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ .
طلحہ بن عبیداللہ روایت:
ایک دیہاتی (ضمام بن ثعلبہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس حال میں حاضر ہوا کہ اس کے سر کے بال پراگندہ تھے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ وقت کی نمازیں۔ سوا ان نمازوں کے جو تم نفلی پڑھو۔اس نے کہا مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے کتنے روزے فرض کئے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کے مہینے کے روزے سوا ان کے جو تم نفلی رکھو۔ اس نے پوچھا مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کتنی فرض کی ہے؟ بیان کیا کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کے مسائل بیان کئے۔ پھر اس دیہاتی نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو یہ عزت بخشی ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فرض کیا ہے اس میں نہ میں کسی قسم کی زیادتی کروں گا اور نہ کمی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس نے صحیح کہا ہے تو جنت میں جائے گا اور بعض لوگوں نے کہا کہ ایک سو بیس اونٹوں میں دو حصے تین تین برس کی دو اونٹنیاں جو چوتھے برس میں لگی ہوں زکوٰۃ میں لازم آتی ہیں پس مگر کسی نے ان اونٹوں کو عمداً تلف کر ڈالا (مثلاً ذبح کر دیا) اور کوئی حیلہ کیا تو اس کے اوپر سے زکوٰۃ ساقط ہو گی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۹۵۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے فرض عبادات کے بارے میں سوال کیا۔ اس نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ وقت کی نمازیں، سوائے اس کے کہ تم نفل پڑھو۔ پھر اس نے روزے کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: رمضان کے روزے، سوائے اس کے کہ تم نفل رکھو۔ پھر اس نے زکوٰۃ کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کے مسائل بیان کیے۔ اس شخص نے کہا کہ جو اللہ نے فرض کیا ہے، نہ اس میں زیادتی کرے گا نہ کمی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس نے سچ کہا تو کامیاب ہو گا یا جنت میں جائے گا۔ اس حدیث میں فرض نماز، رمضان روزہ، زکوٰۃ، فرائض اسلام اور عمل کی پابندی صاف نظر آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پانچ وقت کی نماز فرض عبادت ہے۔
- رمضان کے روزے فرض ہیں، نفل الگ عمل ہے۔
- فرض عبادات میں کمی نہ کرنے کا عزم اہم ہے۔
