صحیح بخاری حدیث ۶۹۵۷ - مال کا حق ادا نہ کرنا
مال کا حق ادا نہ کرنے کی حدیث: خزانہ اژدھا بن جائے گا
صحیح بخاری : ۶۹۵۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۵۷
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَكُونُ كَنْزُ أَحَدِكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ فَيَطْلُبُهُ ، وَيَقُولُ أَنَا كَنْزُكَ ، قَالَ وَاللَّهِ لَنْ يَزَالَ يَطْلُبُهُ حَتَّى يَبْسُطَ يَدَهُ فَيُلْقِمَهَا فَاهُ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن تم میں سے کسی کا خزانہ چتکبرا اژدھا بن کر آئے گا اس کا مالک اس سے بھاگے گا لیکن وہ اسے تلاش کر رہا ہو گا اور کہے گا کہ میں تمہارا خزانہ ہوں۔ فرمایا واللہ وہ مسلسل تلاش کرتا رہے گا یہاں تک کہ وہ شخص اپنا ہاتھ پھیلا دے گا اور اژدھا اسے لقمہ بنائے گا۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۹۵۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع مال کا حق ادا نہ کرنا اور قیامت کی جواب دہی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن تم میں سے کسی کا خزانہ چتکبرا اژدھا بن کر آئے گا۔ اس کا مالک اس سے بھاگے گا، مگر وہ اسے تلاش کرے گا اور کہے گا کہ میں تمہارا خزانہ ہوں۔ پھر وہ اس کے پیچھے لگا رہے گا یہاں تک کہ آدمی اپنا ہاتھ پھیلائے گا اور اژدھا اسے اپنے منہ میں لے گا۔ اس حدیث میں زکوٰۃ، خزانہ، مال کی جواب دہی، قیامت کا حساب اور مالی حق ادا کرنے کی اہم بات سامنے آتی ہے۔ متن میں خوف دلایا گیا ہے کہ مال صرف جمع کرنے کی چیز نہیں، اس کے حق کا معاملہ بھی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مال کے حق کو نظر انداز کرنا قیامت کے دن سخت معاملہ بن سکتا ہے۔
- خزانہ مالک کے لیے جواب دہی کا سبب بن سکتا ہے۔
- مال کے بارے میں آخرت کی فکر ضروری ہے۔
