صحیح بخاری حدیث ۶۹۵۵ - زکوٰۃ سے بچنے کا حیلہ
زکوٰۃ سے بچنے کا حیلہ: مال کو مصنوعی طور پر نہ بدلیں
صحیح بخاری : ۶۹۵۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۵۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُ ، " أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَتَبَ لَهُ فَرِيضَةَ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ " .
انس بن مالک روایت:
ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں (زکوٰۃ) کا حکم نامہ لکھ کر بھیجا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض قرار دیا تھا کہ متفرق صدقہ کو ایک جگہ جمع نہ کیا جائے اور نہ مجتمع صدقہ کو متفرق کیا جائے زکوٰۃ کے خوف سے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۹۵۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں زکوٰۃ کے معاملے میں حیلہ سے بچنے کی بات آتی ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں زکوٰۃ کا وہ حکم نامہ لکھ کر بھیجا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض قرار دیا تھا۔ اس میں یہ بات تھی کہ متفرق صدقہ کو ایک جگہ جمع نہ کیا جائے اور نہ جمع شدہ صدقہ کو الگ الگ کیا جائے، زکوٰۃ کے خوف سے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع زکوٰۃ، صدقہ، حیلہ سازی اور مالی دیانت ہے۔ متن میں خاص طور پر اس عمل کو روکا گیا ہے کہ کوئی شخص زکوٰۃ کے حساب کو بدلنے کے لیے مال کی ظاہری شکل بدل دے۔ زکوٰۃ کی حدیث ہمیں یہ بتاتی ہے کہ عبادت اور مالی حق میں صاف نیت اور صاف معاملہ ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زکوٰۃ سے بچنے کے لیے مال کی ترتیب مصنوعی طور پر بدلنا درست نہیں۔
- متفرق مال کو زکوٰۃ کے خوف سے جمع نہیں کیا جائے گا۔
- جمع مال کو زکوٰۃ کے خوف سے الگ نہیں کیا جائے گا۔
