صحیح بخاری حدیث ۱۸۹۲ - عاشورہ کے روزے کا حکم
عاشورہ کا روزہ: رمضان فرض ہونے کے بعد حکم
صحیح بخاری : ۱۸۹۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۹۲
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " صَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاشُورَاءَ ، وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ تُرِكَ " ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يَصُومُهُ ، إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ صَوْمَهُ .
ابن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عاشورہ کا روزہ رکھا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے رکھنے کا صحابہ رضی اللہ عنہم کو ابتداء اسلام میں حکم دیا تھا، جب ماہ رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو عاشورہ کا روزہ بطور فرض چھوڑ دیا گیا، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عاشورہ کے دن روزہ نہ رکھتے مگر جب ان کے روزے کا دن ہی یوم عاشورہ آن پڑتا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۸۹۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں عاشورہ کے روزے کا حکم بیان ہوا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عاشورہ کا روزہ رکھا اور ابتدا میں صحابہ کو بھی اس کا حکم دیا۔ پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو عاشورہ کا روزہ بطور فرض چھوڑ دیا گیا۔ روایت میں یہ بھی ذکر ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عاشورہ کا روزہ خاص طور پر نہ رکھتے، مگر جب وہ ان کے معمول کے روزے کے دن آ جاتا تو رکھ لیتے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کی فرضیت کے بعد عاشورہ کا حکم پہلے جیسا فرضی نہیں رہا۔ متن کے مطابق اصل بات یہی ہے: پہلے حکم تھا، پھر رمضان فرض ہونے کے بعد عاشورہ کی فرضیت ختم ہوگئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کا روزہ رکھا تھا۔
- ابتدا میں عاشورہ کے روزے کا حکم دیا گیا تھا۔
- رمضان کے روزے فرض ہونے کے بعد عاشورہ بطور فرض باقی نہ رہا۔
- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اسے اپنے معمول کے روزے سے موافقت پر رکھتے تھے۔
