صحیح بخاری حدیث ۱۸۹۳ - عاشورہ کا روزہ اختیار کے ساتھ
یوم عاشورہ کا روزہ: رکھنا یا نہ رکھنا
صحیح بخاری : ۱۸۹۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۹۳
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ عِرَاكَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " أَنَّ قُرَيْشًا كَانَتْ تَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصِيَامِهِ حَتَّى فُرِضَ رَمَضَانُ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْهُ ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ " .
عروہ روایت:
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا قریش زمانہ جاہلیت میں عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس دن روزہ کا حکم دیا یہاں تک کہ رمضان کے روزے فرض ہو گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کا جی چاہے یوم عاشورہ کا روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۸۹۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ قریش زمانہ جاہلیت میں عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس دن روزے کا حکم دیا۔ یہ حکم اس وقت تک رہا جب تک رمضان کے روزے فرض نہیں ہوئے۔ جب رمضان فرض ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کا جی چاہے عاشورہ کا روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔ اس روایت میں عاشورہ کے روزے کے حکم کا بدلنا صاف طور پر موجود ہے۔ حدیث یہ نہیں کہتی کہ اسے چھوڑنا لازم ہے، بلکہ متن کے مطابق رمضان کے بعد اسے اختیار پر رکھا گیا۔ اس لیے عاشورہ کی حدیث کو سمجھتے وقت فرض اور اختیار کے فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قریش زمانہ جاہلیت میں عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ابتدا میں عاشورہ کے روزے کا حکم دیا۔
- رمضان فرض ہونے کے بعد عاشورہ کے روزے کو اختیار پر چھوڑ دیا گیا۔
- حدیث کے الفاظ حکم کے بدلنے کو واضح کرتے ہیں۔
