صحیح بخاری حدیث ۱۸۹۴ - روزہ ڈھال ہے
روزہ ڈھال ہے: صبر، زبان اور اخلاص کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۸۹۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۹۴
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الصِّيَامُ جُنَّةٌ ، فَلَا يَرْفُثْ ، وَلَا يَجْهَلْ ، وَإِنِ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَاتَمَهُ ، فَلْيَقُلْ : إِنِّي صَائِمٌ مَرَّتَيْنِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ، يَتْرُكُ طَعَامَهُ ، وَشَرَابَهُ ، وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي الصِّيَامُ لِي ، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ دوزخ سے بچنے کے لیے ایک ڈھال ہے اس لیے (روزہ دار) نہ فحش باتیں کرے اور نہ جہالت کی باتیں اور اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو اس کا جواب صرف یہ ہونا چاہئے کہ میں روزہ دار ہوں، (یہ الفاظ) دو مرتبہ (کہہ دے) اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ اور پاکیزہ ہے، (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) بندہ اپنا کھانا پینا اور اپنی شہوت میرے لیے چھوڑ دیتا ہے، روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور (دوسری) نیکیوں کا ثواب بھی اصل نیکی کے دس گنا ہوتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۸۹۴ کا خلاصہ
یہ حدیث روزے کی فضیلت اور روزہ دار کے اخلاق کو بہت واضح کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے۔ اس لیے روزہ دار فحش بات نہ کرے، جہالت والی بات نہ کرے، اور اگر کوئی اس سے لڑے یا گالی دے تو جواب میں کہے: میں روزہ دار ہوں۔ حدیث میں یہ جملہ دو بار کہنے کا ذکر ہے۔ پھر روزہ دار کے منہ کی بو کو اللہ کے نزدیک کستوری سے زیادہ پاکیزہ بتایا گیا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کے ساتھ فرمایا گیا کہ بندہ کھانا، پینا اور خواہش میرے لیے چھوڑتا ہے؛ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ اس حدیث میں روزہ صرف بھوکا رہنے کا نام نہیں، بلکہ زبان، مزاج، اور نیت کی حفاظت بھی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روزہ ڈھال ہے، اس لیے روزہ دار کو فحش اور جھگڑے والی بات سے بچنا چاہیے۔
- کسی کے لڑنے یا گالی دینے پر روزہ دار کو کہنا چاہیے: میں روزہ دار ہوں۔
- روزہ اللہ کے لیے کھانا، پینا اور خواہش چھوڑنے کا عمل ہے۔
- نیکی کا اجر کم از کم دس گنا ہونے کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
