صحیح بخاری حدیث ۱۸۹۵ - گھر، مال اور پڑوسی کی آزمائش

فتنہ کی حدیث: گھر، مال اور پڑوسی کی آزمائش

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۹۵

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا جَامِعٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مَنْ يَحْفَظُ حَدِيثًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ ، قَالَ حُذَيْفَةُ : أَنَا سَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : " فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ ، وَمَالِهِ ، وَجَارِهِ تُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ ، وَالصِّيَامُ ، وَالصَّدَقَةُ " ، قَالَ : لَيْسَ أَسْأَلُ عَنْ ذِهِ ، إِنَّمَا أَسْأَلُ عَنِ الَّتِي تَمُوجُ كَمَا يَمُوجُ الْبَحْرُ ، قَالَ : وَإِنَّ دُونَ ذَلِكَ بَابًا مُغْلَقًا ، قَالَ : فَيُفْتَحُ أَوْ يُكْسَرُ ، قَالَ : يُكْسَرُ ، قَالَ : ذَاكَ أَجْدَرُ أَنْ لَا يُغْلَقَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ سَلْهُ : أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ مَنِ الْبَابُ ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ اللَّيْلَةَ .

حذیفہ روایت:

عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا فتنہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کسی کو یاد ہے؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ انسان کے لیے اس کے بال بچے، اس کا مال اور اس کے پڑوسی فتنہ (آزمائش و امتحان) ہیں جس کا کفارہ نماز روزہ اور صدقہ بن جاتا ہے۔عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس کے متعلق نہیں پوچھتا میری مراد تو اس فتنہ سے ہے جو سمندر کی موجوں کی طرح امنڈ آئے گا۔ اس پر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ کے اور اس فتنہ کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ (یعنی آپ کے دور میں وہ فتنہ شروع نہیں ہو گا) عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا وہ دروازہ کھل جائے گا یا توڑ دیا جائے گا؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ توڑ دیا جائے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر تو قیامت تک کبھی بند نہ ہو پائے گا۔ہم نے مسروق سے کہا آپ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھئے کہ کیا عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم تھا کہ وہ دروازہ کون ہے، چنانچہ مسروق نے پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں! بالکل اس طرح (انہیں علم تھا) جیسے رات کے بعد دن کے آنے کا علم ہوتا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۸۹۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں فتنے کی دو سطحوں کا ذکر ملتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ فتنے کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کس کو یاد ہے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انسان کے لیے اس کے اہل، مال اور پڑوسی آزمائش ہیں، اور ان کا کفارہ نماز، روزہ اور صدقہ بن جاتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اس فتنے کے بارے میں نہیں پوچھ رہا، بلکہ اس بڑے فتنے کے بارے میں پوچھ رہا ہوں جو سمندر کی موجوں کی طرح آئے گا۔ پھر بند دروازے کا ذکر ہوا، اور بتایا گیا کہ وہ کھولا نہیں جائے گا بلکہ توڑا جائے گا۔ اس حدیث میں روزمرہ آزمائش، عبادتوں کی اہمیت، اور بڑے فتنے کے بارے میں صحابہ کی سنجیدگی صاف نظر آتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اہل، مال اور پڑوسی انسان کے لیے آزمائش بن سکتے ہیں۔
  • حدیث کے مطابق نماز، روزہ اور صدقہ ان آزمائشوں کا کفارہ بنتے ہیں۔
  • بڑے فتنے کو سمندر کی موجوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔
  • صحابہ کرام فتنے کی بات کو سنجیدگی سے سمجھتے اور پوچھتے تھے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں