صحیح بخاری حدیث ۱۸۹۶ - روزہ داروں کے لیے باب الریان
باب الریان: روزہ داروں کے لیے جنت کا خاص دروازہ
صحیح بخاری : ۱۸۹۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۹۶
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا ، يُقَالُ لَهُ : الرَّيَّانُ ، يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ ، يُقَالُ : أَيْنَ الصَّائِمُونَ ؟ فَيَقُومُونَ ، لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ ، فَإِذَا دَخَلُوا أُغْلِقَ ، فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ " .
سہل بن سعد ساعدی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جنت کا ایک دروازہ ہے جسے ریان کہتے ہیں قیامت کے دن اس دروازہ سے صرف روزہ دار ہی جنت میں داخل ہوں گے، ان کے سوا اور کوئی اس میں سے نہیں داخل ہو گا، پکارا جائے گا کہ روزہ دار کہاں ہیں؟ وہ کھڑے ہو جائیں گے ان کے سوا اس سے اور کوئی نہیں اندر جانے پائے گا اور جب یہ لوگ اندر چلے جائیں گے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا پھر اس سے کوئی اندر نہ جا سکے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۸۹۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع باب الریان اور روزہ داروں کی فضیلت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے۔ قیامت کے دن اس دروازے سے صرف روزہ دار داخل ہوں گے، ان کے سوا کوئی داخل نہیں ہوگا۔ پکارا جائے گا کہ روزہ دار کہاں ہیں؟ وہ کھڑے ہوں گے اور اسی دروازے سے داخل ہوں گے۔ جب وہ داخل ہو جائیں گے تو دروازہ بند کر دیا جائے گا اور پھر اس سے کوئی اور داخل نہیں ہوگا۔ حدیث میں روزہ داروں کے لیے ایک خاص اعزاز کا ذکر ہے۔ اس سے روزے کی قدر دل میں بڑھتی ہے اور رمضان کے روزے ہوں یا دوسرے مشروع روزے، بندہ انہیں اللہ کی رضا کے لیے سنجیدگی سے ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جنت میں ریان نامی دروازہ روزہ داروں کے لیے خاص ہوگا۔
- قیامت کے دن روزہ داروں کو پکارا جائے گا۔
- حدیث کے مطابق اس دروازے سے روزہ داروں کے سوا کوئی داخل نہیں ہوگا۔
- روزہ اللہ کے ہاں بڑی قدر والا عمل ہے۔
