صحیح مسلم حدیث ۱۱۵۲ - ایک کپڑا لپیٹ کر نماز
ایک کپڑا لپیٹ کر نماز: نبی صلى الله عليه وسلم کا دیکھا ہوا عمل
صحیح مسلم : ۱۱۵۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۱۵۲
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، مُشْتَمِلًا بِهِ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ " ،
عمر بن ابوسلمہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر ایک کپڑا لپیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے اور اس کے دونوں کنارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مونڈھوں پر تھے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۱۵۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر ایک کپڑا لپیٹے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا، اور اس کپڑے کے دونوں کنارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں پر تھے۔ یہ حدیث ایک کپڑے میں نماز کے عملی انداز کو بیان کرتی ہے۔ یہاں صرف جواز کا سوال نہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کا مشاہدہ ہے۔ ایک کپڑا لپیٹ کر نماز، کندھوں پر کپڑے کے کنارے رکھنا، اور گھر کے اندر نماز پڑھنا اس روایت کے مرکزی نکات ہیں۔ اس حدیث کو پڑھتے ہوئے یہ بات سامنے آتی ہے کہ کپڑا ایک تھا، مگر اسے سلیقے سے لیا گیا تھا۔ تشریح اسی حد تک رہنی چاہیے جو الفاظ میں آئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سیدنا عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل دیکھا۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑا لپیٹ کر نماز پڑھی۔
- کپڑے کے دونوں کنارے کندھوں پر رکھنے کا ذکر روایت میں آیا ہے۔
