صحیح بخاری حدیث ۳۶۶۶ - جنت کے دروازوں سے پکار
جنت کے دروازوں کی حدیث: صدقہ، نماز اور روزے والوں کی پکار
صحیح بخاری : ۳۶۶۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۶۶۶
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ شَيْءٍ مِنَ الْأَشْيَاءِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ دُعِيَ مِنْ أَبْوَابِ يَعْنِي الْجَنَّةَ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ , وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ , وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ , وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصِّيَامِ وَبَابِ الرَّيَّانِ " ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : مَا عَلَى هَذَا الَّذِي يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ ، وَقَالَ : هَلْ يُدْعَى مِنْهَا كُلِّهَا أَحَدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " نَعَمْ وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ يَا أَبَا بَكْرٍ " .
ابوہریرہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اللہ کے راستے میں کسی چیز کا ایک جوڑا خرچ کیا (مثلاً دو روپے، دو کپڑے، دو گھوڑے اللہ تعالیٰ کے راستے میں دیے) تو اسے جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا کہ اے اللہ کے بندے! ادھر آ، یہ دروازہ بہتر ہے پس جو شخص نمازی ہو گا اسے نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا، جو شخص مجاہد ہو گا اسے جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا، جو شخص اہل صدقہ میں سے ہو گا اسے صدقہ کے دروازہ سے بلایا جائے گا اور جو شخص روزہ دار ہو گا اسے صیام اور ریان (سیرابی) کے دروازے سے بلایا جائے گا۔ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جس شخص کو ان تمام ہی دروازوں سے بلایا جائے گا پھر تو اسے کسی قسم کا خوف باقی نہیں رہے گا اور پوچھا کیا کوئی شخص ایسا بھی ہو گا جسے ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم بھی انہیں میں سے ہو گے اے ابوبکر!۔
صحیح بخاری حدیث ۳۶۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ جو شخص اللہ کے راستے میں کسی چیز کا جوڑا خرچ کرے گا، اسے جنت کے دروازوں سے پکارا جائے گا۔ پھر مختلف نیک اعمال کا ذکر فرمایا: نمازی کو نماز کے دروازے سے، جہاد والے کو جہاد کے دروازے سے، صدقہ کرنے والے کو صدقہ کے دروازے سے، اور روزہ رکھنے والے کو صیام یا ریان کے دروازے سے بلایا جائے گا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا کوئی ایسا بھی ہوگا جسے سب دروازوں سے بلایا جائے؟ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ہاں، اور اے ابوبکر! مجھے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو گے۔ یہ حدیث نیکی کے مختلف راستوں، اللہ کے لیے خرچ کرنے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بڑی فضیلت کو بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے راستے میں خرچ کرنا بڑی نیکی ہے۔
- نماز، روزہ، صدقہ اور جہاد ہر ایک نیکی کا الگ مقام ہے۔
- نیک اعمال انسان کے لیے جنت کی طرف پکار کا سبب بن سکتے ہیں۔
- ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے نبی صلى الله عليه وسلم نے بڑی امید ظاہر فرمائی۔
