صحیح بخاری حدیث ۵۹۲۷ - روزہ اللہ کے لیے ہے

روزہ اللہ کے لیے ہے: روزہ دار کی قدر و شان

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۲۷

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا) ابن آدم کا ہر عمل اس کا ہے سوا روزہ کے کہ یہ میرا ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا اور روزہ دار کے منہ کے خوشبو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بڑھ کر ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۵۹۲۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں روزہ کی فضیلت بہت واضح الفاظ میں آئی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اللہ تعالیٰ کا فرمان بیان کیا کہ ابن آدم کا ہر عمل اس کا ہے، مگر روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ اس سے روزہ کی خاص نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف معلوم ہوتی ہے۔ حدیث میں روزہ دار کے منہ کی بو کا بھی ذکر ہے کہ اللہ کے نزدیک وہ مشک کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ روزہ صرف کھانا پینا چھوڑنے کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسا عمل ہے جس کی قدر اللہ تعالیٰ خود بیان فرما رہا ہے۔ روزہ دار بظاہر مشقت اٹھاتا ہے، مگر اس عمل کی نسبت اللہ سے خاص طور پر جوڑی گئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • روزہ ایک خاص عبادت ہے جس کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف فرمائی۔
  • روزہ دار کی حالت اللہ کے نزدیک قدر والی ہے، چاہے دنیاوی طور پر وہ معمولی محسوس ہو۔
  • عبادت کی اصل قدر اللہ کے ہاں ہے، صرف ظاہری صورت سے فیصلہ نہیں کیا جاتا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں