صحیح بخاری حدیث ۵۹۲۸ - احرام سے پہلے خوشبو لگانا
احرام سے پہلے خوشبو لگانا: عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت
صحیح بخاری : ۵۹۲۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۲۸
حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كُنْتُ أُطَيِّبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ بِأَطْيَبِ مَا أَجِدُ " .
عائشہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام کے وقت عمدہ سے عمدہ خوشبو جو مل سکتی تھی، وہ لگاتی۔
صحیح بخاری حدیث ۵۹۲۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا اپنا عمل بیان کر رہی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو احرام کے وقت سب سے اچھی خوشبو لگاتی تھیں جو انہیں میسر ہوتی۔ یہاں اصل موضوع احرام سے پہلے خوشبو لگانا ہے۔ روایت میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ خوشبو عمدہ ہوتی تھی اور احرام کے وقت لگائی جاتی تھی۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے احرام کے موقع پر صفائی، خوشبو اور اچھے اہتمام کا پہلو موجود تھا۔ حدیث میں کسی لمبی تفصیل یا الگ حکم کا ذکر نہیں، اس لیے تشریح بھی اسی حد تک رہتی ہے۔ “احرام کی خوشبو” اور “احرام سے پہلے خوشبو” جیسے الفاظ اسی روایت کے اصل مضمون کو ظاہر کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- احرام کے وقت نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو عمدہ خوشبو لگائی جاتی تھی۔
- عبادت کے مواقع پر صفائی اور اچھا اہتمام پسندیدہ انداز میں ظاہر ہوتا ہے۔
- حدیث سے اتنا ہی معلوم ہوتا ہے جتنا عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے عمل کے طور پر بیان کیا۔
