صحیح بخاری حدیث ۲۵۸۲ - خوشبو کا ہدیہ واپس نہ کرنا

خوشبو کا ہدیہ قبول کرنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۸۲

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَيْهِ فَنَاوَلَنِي طِيبًا ، قَالَ : كَانَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا يَرُدُّ الطِّيبَ ، قَالَ : وَزَعَمَ أَنَسٌ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرُدُّ الطِّيبَ " .

عزرہ بن ثابت انصاری روایت:

مجھ سے ثمامہ بن عبداللہ نے بیان کیا، عزرہ نے کہا کہ میں ثمامہ بن عبداللہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھے خوشبو عنایت فرمائی اور بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ خوشبو کو واپس نہیں کرتے تھے۔ ثمامہ نے کہا کہ انس رضی اللہ عنہ کا گمان تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوشبو کو واپس نہیں فرمایا کرتے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۵۸۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا بنیادی موضوع خوشبو کا ہدیہ ہے۔ ثمامہ بن عبداللہ نے عزرہ بن ثابت کو خوشبو دی اور بتایا کہ انس رضی اللہ عنہ خوشبو واپس نہیں کرتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ کا گمان تھا کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم بھی خوشبو واپس نہیں فرماتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خوشبو جیسا ہلکا، پاکیزہ اور اچھا ہدیہ قبول کرنا پسندیدہ عمل ہے۔ حدیث میں بڑی لمبی بحث نہیں، بس ایک صاف بات ہے کہ خوشبو کی پیشکش کو رد نہ کرنا نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے ملتا ہے۔ آج بھی کوئی خوشبو، عطر یا اچھا تحفہ دے تو اسے اچھے دل سے قبول کرنا محبت بڑھاتا ہے۔ یہ ہدیہ قبول کرنے کی حدیث انسان کو سادگی، خوش اخلاقی اور دوسروں کی دلجوئی سکھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خوشبو کا ہدیہ قبول کرنا نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
  • چھوٹا تحفہ بھی محبت بڑھانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
  • کسی کی اچھی پیشکش کو بے وجہ رد کرنا مناسب نہیں۔
  • صحابہ کرام نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کو اپنی زندگی میں اپناتے تھے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں