صحیح بخاری حدیث ۲۵۸۳ - توبہ کرنے والوں کے ساتھ نرمی
توبہ کرنے والوں کے ساتھ نرمی اور قیدی واپس کرنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۵۸۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۸۳
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : ذَكَرَ عُرْوَةُ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، وَمَرْوَانَ أَخْبَرَاهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ قَامَ فِي النَّاسِ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، " فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ جَاءُونَا تَائِبِينَ ، وَإِنِّي رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا " ، فَقَالَ النَّاسُ : طَيَّبْنَا لَكَ .
´ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، ان سے لیث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا ابن شہاب سے، ان سے عروہ نے ذکر کیا کہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم نے انہیں خبر دی کہ` جب قبیلہ ہوازن کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطاب فرمایا اور اللہ کی شان کے مطابق ثناء کے بعد آپ نے فرمایا: امابعد! یہ تمہارے بھائی توبہ کر کے ہمارے پاس آئے ہیں اور میں یہی بہتر سمجھتا ہوں کہ ان کے قیدی انہیں واپس کر دئیے جائیں۔ اب جو شخص اپنی خوشی سے (قیدیوں کو) واپس کرنا چاہے وہ واپس کر دے اور جو یہ چاہے کہ انہیں ان کا حصہ ملے (تو وہ بھی واپس کر دے) اور ہمیں اللہ تعالیٰ (اس کے بعد) سب سے پہلی جو غنیمت دے گا، اس میں سے ہم اسے معاوضہ دے دیں گے۔ لوگوں نے کہا ہم اپنی خوشی سے (ان کے قیدی واپس کر کے) آپ کا ارشاد تسلیم کرتے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۲۵۸۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع توبہ، نرمی اور لوگوں کے حقوق کا لحاظ ہے۔ قبیلہ ہوازن کا وفد نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس توبہ کر کے آیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے لوگوں کے سامنے اللہ کی حمد کے بعد فرمایا کہ یہ تمہارے بھائی توبہ کر کے آئے ہیں، اور آپ صلى الله عليه وسلم نے بہتر سمجھا کہ ان کے قیدی انہیں واپس کر دیے جائیں۔ مگر ساتھ ہی لوگوں کے حق کا بھی خیال رکھا گیا۔ جس نے خوشی سے واپس کرنا چاہا وہ کرے، اور جو اپنا حصہ لینا چاہے تو بعد میں آنے والی غنیمت سے بدلہ دیا جائے۔ صحابہ نے خوش دلی سے کہا کہ ہم آپ صلى الله عليه وسلم کے لیے راضی ہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اسلام میں رحم کے ساتھ حق داروں کی رضامندی بھی اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- توبہ کر کے آنے والوں کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
- لوگوں کے حقوق کو نظرانداز کیے بغیر خیر کا راستہ نکالا گیا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے فیصلے سے پہلے لوگوں کو واضح اختیار دیا۔
- صحابہ کرام نے خوشی سے نبی صلى الله عليه وسلم کی بات قبول کی۔
