صحیح بخاری حدیث ۵۹۳۰ - حجۃ الوداع میں خوشبو کا اہتمام

حجۃ الوداع میں احرام اور خوشبو: ذریرہ کا ذکر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۳۰

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، أَوْ مُحَمَّدٌ عَنْهُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ، سَمِعَ عُرْوَةَ ، وَالْقَاسِمَ ، يخبران عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ بِذَرِيرَةٍ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ لِلْحِلِّ وَالْإِحْرَامِ " .

عائشہ روایت:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر احرام کھولنے اور احرام باندھنے کے وقت اپنے ہاتھ سے ذریرہ (ایک قسم کی مرکب) خوشبو لگائی تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۵۹۳۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو ذریرہ خوشبو لگائی۔ روایت میں دو مواقع کا ذکر ہے: احرام باندھنے کا وقت اور احرام کھولنے کا وقت۔ اس لیے اس حدیث کا اصل مضمون احرام اور خوشبو سے متعلق ہے۔ یہاں یہ بھی خاص بات ہے کہ خوشبو کا نام “ذریرہ” آیا ہے، جو اس روایت کی پہچان بن جاتا ہے۔ تشریح میں اس سے آگے بڑھ کر کوئی اضافی واقعہ جوڑنے کی ضرورت نہیں۔ حدیث ہمیں صرف اتنا بتاتی ہے کہ حج کے موقع پر نبی صلى الله عليه وسلم کے لیے خوشبو کا اہتمام کیا گیا، اور یہ کام عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود اپنے ہاتھ سے کیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حجۃ الوداع میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو احرام کے وقت خوشبو لگائی گئی۔
  • روایت میں احرام کھولنے اور احرام باندھنے دونوں مواقع کا ذکر ہے۔
  • دینی عمل میں صفائی اور خوشبو کا اہتمام حدیث کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں