صحیح بخاری حدیث ۵۹۳۱ - خوبصورتی کے لیے خلقت بدلنا
خوبصورتی کے لیے خلقت بدلنا: گودنے اور دانت بدلنے کی ممانعت
صحیح بخاری : ۵۹۳۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۳۱
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ تَعَالَى " ، مَالِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ سورة الحشر آية 7 .
عبداللہ بن مسعود روایت:
اللہ تعالیٰ نے حسن کے لیے گودنے والیوں، گدوانے والیوں پر اور چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں پر اور دانتوں کے درمیان کشادگی پیدا کرنے والیوں پر، جو اللہ کی خلقت کو بدلیں ان سب پر لعنت بھیجی ہے، میں بھی کیوں نہ ان لوگوں پر لعنت کروں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور اس کی دلیل کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لعنت خود قرآن مجید میں موجود ہے۔ آیت «وما آتاكم الرسول فخذوه» ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۹۳۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان عورتوں کا ذکر کیا جو خوبصورتی کے لیے گودتی ہیں، گدواتی ہیں، چہرے کے بال اکھاڑتی ہیں، یا دانتوں کے درمیان کشادگی پیدا کرتی ہیں۔ روایت کے الفاظ کے مطابق یہ کام اللہ کی خلقت کو بدلنے سے متعلق ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جس پر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے لعنت فرمائی، میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں، اور اس کے لیے آیت “وما آتاكم الرسول فخذوه” کا حوالہ دیا۔ اس حدیث میں اصل توجہ “خوبصورتی کے لیے خلقت بدلنا” اور “گودنے کی ممانعت” پر ہے۔ اس لیے بات کو فیشن یا ہر طرح کی زینت تک پھیلانا درست نہیں؛ روایت انہی خاص اعمال کا ذکر کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں گودنے، گدوانے، چہرے کے بال اکھاڑنے اور دانتوں میں فاصلہ بنانے کی ممانعت آئی ہے۔
- روایت کے مطابق یہ کام خوبصورتی کے لیے خلقت بدلنے سے جڑے ہوئے ہیں۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی دی ہوئی ہدایت کو قبول کرنا قرآن کی تعلیم سے جوڑا گیا ہے۔
